نئی دہلی، یکم مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے جیٹ ایئر ویز میں ٹکٹ بک کرانے سے منسلک پیسے کو مسافروں کو واپس لوٹنے سے منسلک درخواست پر شہر ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے)، جیٹ ایئر ویز، سول ایوی ایشن وزارت سے جواب مانگا ہے۔عدالت نے تمام کو اس معاملے میں اپنا جواب اگلی سماعت سے پہلے داخل کرنے کو کہا ہے۔دہلی ہائی کورٹ میں جیٹ ایئر ویز کے ان مسافروں نے جنہوں نے ایڈوانس میں ٹکٹ لئے تھے ان حاجت کے لئے یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔ 16 جولائی کو اس معاملے میں کورٹ دوبارہ سماعت کرے گا۔اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے جیٹ ایئر ویز میں کئی ماہ پہلے کم دام میں بک کرائی، ان کا وہ پیسہ بھی ڈوب گیا،اب کسی دوسری ایئر لائنز میں ان کا دورہ کرنے کی کئی گنا مہنگی قیمت پر دوسری ایئر لائنز سے ٹکٹ بک کرنا پڑ رہا ہے۔لوگوں کو نہ صرف اپنے پیسے کا نقصان برداشت پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، بلکہ ذہنی اذیتیں بھی جھیلنی پڑ رہی ہے۔قریب 100 طیارے جیٹ کی طرف سے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے خارج کر دئے گئے،لوگوں کو مہنگی ٹکٹ خریدنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے، کیونکہ کسی کو خاندانی کسی کو اپنے آفس کے کام کے چلتے دورہ کرنا لازمی ہے۔اگرچہ گزشتہ سماعت میں اس معاملے پر دہلی ہائی کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورٹ کو لگتا ہے کہ یہ عرضی تشہیر کے لئے دائر کی گئی تھی۔کورٹ نے گزشتہ سماعت پر درخواست گزار سے پوچھا تھا کہ سماعت پر آنے سے پہلے پی آئی ایل کے مواد اخبارات میں کیوں شائع کئے گئے،اس کے بعد کورٹ میں سماعت کے لئے یکم مئی کی تاریخ دے دی تھی۔یہ عرضی کنزیومر کارکن بجون مشرا کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔دہلی ہائی کورٹ میں اس سے پہلے مشرا کی جانب سے ایک درخواست لگائی گئی تھی جس میں ایئر لائنز میں کرایوں پر کنٹرول کے لئے گائڈلائنس بنانے کے لئے کورٹ کو کہا گیا تھا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایئر لائنز من مانے داموں پر اپنی ٹکٹ فروخت کر رہی ہیں،جس کی وجہ سے عام لوگوں کو کئی گنا مہنگے داموں ٹکٹ خریدنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔